السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في جر الولاء. باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21525
وَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ لَا يَكَادُ يَرْجِعُ عَنْ قَضَاءٍ قَضَى بِهِ، حَتَّى حَدَّثَهُ الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَرَّةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ، فَتَلِدُ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ يُعْتَقُ أَبُوهُمْ: " أَنَّهُ يَصِيرُ وَلَاؤُهُمْ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِمْ "، فَأَخَذَ بِهِ شُرَيْحٌ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْأَسْوَدُ حَدَّثَهُ عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ جَمِيعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ..حافظ ثناء اللہ
ابراہیم فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ اپنے کیے ہوئے فیصلے سے کم ہی رجوع کرتے تھے، یہاں تک کہ اسود بن یزید رحمہ اللہ نے انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے اس آزاد عورت کے بارے میں فرمایا جو غلام کے نکاح میں ہو اور اس کی اولاد بھی ہو، پھر ان کا باپ آزاد ہو جائے تو ان کی ولاء باپ کو آزاد کرنے والوں کی طرف چلی جائے گی، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے اسی کو اختیار کر لیا۔
یہ سند صحیح ہے، اور ممکن ہے کہ اسود نے انہیں یہ بات حضرت عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں سے بیان کی ہو، واللہ اعلم۔