السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : لا ترث النساء الولاء إلا من أعتقن، أو أعتق من أعتقن. باب: عورتیں ولاء کی وارث نہیں ہوتیں مگر صرف اس صورت میں جب وہ خود کسی کو آزاد کریں، یا ان کا آزاد کردہ غلام کسی اور کو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 21511
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَجْعَلُونَ الْوَلَاءَ لِلْكُبْرِ مِنَ الْعَصَبَةِ، وَلَا يُوَرِّثُونَ النِّسَاءَ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ، أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عصبہ میں سے بڑے کے لیے ولاء مقرر کرتے تھے اور عورتوں میں سے ولاء کی وارث صرف وہ عورتیں ہوتیں جو آزاد کرتیں، یا وہ آزاد کرے جس کو وہ آزاد کرتیں۔