حدیث نمبر: 21488
اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى فِي ثُبُوتِ الْوَلَاءِ لِلْمُعْتِقِ، وَأَنَّهُ مُشَبَّهٌ بِالنَّسَبِ، وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ..
حافظ ثناء اللہ

(یہ) آزاد کرنے والے کے لیے ولاء کے ثبوت کے بارے میں گزشتہ دلائل سے استدلال کرتے ہوئے ہے، اور اس بنا پر کہ ولاء کو نسب کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اور ہمارے بعض اصحاب نے اس بارے میں استدلال کیا ہے...

بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَالُهُ لِمَوَالِي الْعَصَبَةِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا أَوْ ضَيَاعًا فَأَنَا وَلِيُّهُ، فَلْأُدْعَى لَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَحْمُودٍ. عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، وَقَالَ غَيْرُهُمْ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں مومنوں کے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، جو فوت ہو گیا اور مال چھوڑ دیا تو وہ اس کے عصبات (یعنی رشتہ داروں) کے اندر تقسیم کر دیا جائے گا اور جس نے قرض یا ضیاع (بے سہارا اہل و عیال) چھوڑا تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الولاء / حدیث: 21488
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»