السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من أعتق عبدا له سائبة باب: جس نے اپنے غلام کو سائبہ (جس سے ولاء کا تعلق نہ رکھا جائے) کے طور پر آزاد کیا۔
حدیث نمبر: 21479
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ طَارِقَ بْنَ الْمُرَقَّعِ أَعْتَقَ أَهْلَ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ سَوَائِبَ، فَانْقَلَعُوا عَنْ بِضْعَةَ عَشَرَ أَلْفًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَمَرَ أَنْ يُدْفَعَ إِلَى طَارِقٍ، أَوْ وَرَثَةِ طَارِقٍ. . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " أَنَا شَكَكْتُ فِي الْحَدِيثِ هَكَذَا "..حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طارق بن مرقع نے یمن کے اندر کئی گھر والوں کی طرف سے سوائبہ بنا کر آزاد کر دیے، دس ہزار سے معزول ہو گئے یعنی چھوڑ گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ طارق یا طارق کے ورثہ کو دے دو۔