السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : المسلم يعتق نصرانيا أو النصراني يعتق مسلما باب: مسلمان کسی نصرانی کو آزاد کرے یا نصرانی کسی مسلمان کو آزاد کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، أنبأ أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَدِيعَةَ بْنِ خِدَامِ بْنِ خَالِدٍ أَخِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا: سَلْمَى بِنْتُ يَعَارٍ، أَعْتَقَتْهُ سَائِبَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا أُصِيبَ بِالْيَمَامَةِ أَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِيرَاثِهِ، فَدَعَا وَدِيعَةَ بْنَ خِدَامٍ، فَقَالَ: " هَذَا مِيرَاثُ مَوْلَاكُمْ، وَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ "، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ أَغْنَانَا اللهُ عَنْهُ، قَدْ أَعْتَقَتْهُ صَاحِبَتُنَا سَائِبَةً، فَلَا نُرِيدُ أَنْ نَنْدَى مِنْ أَمْرِهِ شَيْئًا، أَوْ قَالَ: نَرْزَأَ، فَجَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ. ..عبداللہ بن ودیعہ رضی اللہ عنہما بن خدام بن خالد بنو عمرو بن عوف کے بھائی ہیں، فرماتے ہیں کہ سالم جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہما کے غلام تھے، حقیقت میں ہمارے قبیلہ کی عورت سلمیٰ بنت یعار کے غلام تھے۔ اس نے سائبہ جاہلیت میں بنا کر آزاد کر دیا، جب جنگِ یمامہ میں وہ مارا گیا تو اس کی وراثت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لائی گئی۔ انہوں نے ودیعہ بن خدام رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا: یہ تمہارے آزاد کردہ غلام کی وراثت ہے، تم اس کے زیادہ حقدار ہو، وہ کہنے لگے: اے امیر المومنین! اللہ نے ہمیں اس سے غنی کر دیا ہے۔ ہمارے قبیلہ کی عورت نے ان کو سائبہ بنا کر آزاد کر دیا تھا۔ ہمیں اس سے کسی چیز کی ضرورت نہ تھی تو انہوں نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔