السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : المسلم يعتق نصرانيا أو النصراني يعتق مسلما باب: مسلمان کسی نصرانی کو آزاد کرے یا نصرانی کسی مسلمان کو آزاد کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: إِنِّي أَعْتَقْتُ غُلَامًا لِي، وَجَعَلْتُهُ سَائِبَةً، فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ أَهْلَ الْإِسْلَامِ لَا يُسَيِّبُونَ، إِنَّمَا كَانَتْ تُسَيِّبُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَنْتَ وَارِثُهُ وَوَلِيُّ نِعْمَتِهِ، فَإِنْ تَحَرَّجْتَ مِنْ شَيْءٍ، فَأَدِّنَاهُ نَجْعَلْهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَرَوَاهُ الشَّعْبِيُّ وَالنَّخَعِيُّ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا. وَرُوِيَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْصُولًا، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: " فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا وَارِثُونَ كَثِيرٌ، فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ "..ہزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنا ایک غلام آزاد کر دیا ہے اور میں نے اس کو سائبہ مقرر کیا تھا۔ وہ فوت ہو گیا اور اس نے مال چھوڑا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان سائبہ نہ چھوڑتے تھے بلکہ جاہلیت میں سائبہ چھوڑا جاتا تھا، آپ اس کے وارث ہیں اور اس کی ولاء کے بھی حق دار ہیں۔ اگر آپ کو گناہ یا حرج محسوس ہوتا ہے تو ہم اس کو بیت المال میں جمع کرا دیتے ہیں۔
(ب) علقمہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر آپ انکار کرتے ہیں تو یہاں وارث بہت ہیں، انہوں نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔