السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من والى رجلا أو أسلم على يديه باب: جس نے کسی شخص سے ولاء کا رشتہ قائم کیا یا اس کے ہاتھ پر اسلام لایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِيَ عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا يَعْنِي: فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرْتُهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں کہ میں نے اپنے آقا سے نو اوقیوں پر مکاتبت کر لی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ دینا ہے، آپ میری مدد کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: ”اگر تیرے آقا پسند کریں تو میں یہ رقم ادا کر دوں اور ولاء میرے لیے ہوگی۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر یہ بات اپنے آقاؤں کے سامنے بیان کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ بریرہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو نبی ﷺ بھی تشریف فرما تھے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں: ولاء ان کی ہوگی، نبی ﷺ نے بھی یہ بات سن لی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خریدو اور ولاء کی شرط رکھو، ولاء ہوتی ہی آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کہ: ”لوگ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں موجود نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرائط بھی ہوں، اللہ کا فیصلہ زیادہ درست ہے اور اس کی شرط زیادہ قوی ہے اور ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔“