السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من والى رجلا أو أسلم على يديه باب: جس نے کسی شخص سے ولاء کا رشتہ قائم کیا یا اس کے ہاتھ پر اسلام لایا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَمْ يَكُنْ مَوْلًى لَهُ بِالْإِسْلَامِ، وَلَا الْمُوَالِاةِ "، وَاحْتَجَّ فِي ذَلِكَ بِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: 5] وَقَالَ: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: 37] فَنَسَبَ الْمَوَالِيَ إِلَى نَسَبَيْنِ: أَحَدُهُمَا إِلَى الْآبَاءِ، وَالْآخَرُ إِلَى الْوَلَاءِ، وَجَعَلَ الْوَلَاءَ بِالنِّعْمَةِ..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ (کسی کے ہاتھ پر) اسلام لانے یا (باہمی) موالات کی بنا پر اس کا مولیٰ نہیں بنے گا۔“
اور انہوں نے اس بارے میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی ﷺ سے فرمان سے استدلال کیا: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ ”انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست (موالی) ہیں۔“ [سورة الأحزاب: 5]
اور فرمایا: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ﴾ ”اور (یاد کریں) جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے (بھی) اس پر انعام کیا۔“ [سورة الأحزاب: 37]
تو اللہ تعالیٰ نے موالی کو دو نسبتوں کی طرف منسوب کیا: ان میں سے ایک باپوں کی طرف، اور دوسری ولاء کی طرف، اور ولاء کو انعام (یعنی آزاد کرنے کے احسان) کی بنیاد پر قرار دیا...
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خریدنا چاہی تاکہ آزاد کر دیں تو مالک کہنے لگے: فروخت کر دیتے ہیں، لیکن ولاء میری ہوگی۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ چیز تجھے خریدنے سے نہ روکے۔ ولاء اس کی ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔“