❮
❯
حدیث نمبر: 21316
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنِيُّ، أنبأ هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ " زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا فِيمَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ غَيْرِهِ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ..
حافظ ثناء اللہ

ابو الملیح رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا۔ اس نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کچھ الفاظ زائد بھی بیان کیے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس کی آزادی کو جائز قرار دیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہو جس نے اپنے اور کسی دوسرے کے مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا، اور اس کے علاوہ کا بھی احتمال ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21316
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»