السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : فضل العتق في الصحة. باب: تندرستی کی حالت میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 21315
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ ⦗٤٦٢⦘ الطَّائِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقُلْتُ: إِنَّ أَخًا لِي مَاتَ، وَأَوْصَى إِلِيَّ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ، فَفِي أِيِّ شَيْءٍ أَضَعُهُ؟ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمُجَاهِدِينَ وَفِي الرِّقَابِ؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي، فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ، لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي بَعْدَ مَا يَشْبَعُ ".حافظ ثناء اللہ
ابو حبیبہ طائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے کہا: میرا ایک بھائی فوت ہو گیا ہے، اس نے اپنے مال کے ایک حصے کی میرے لیے وصیت کی ہے، میں اسے کہاں لگاؤں؟ فقراء میں، مجاہدین میں یا گردنوں کے آزاد کرنے میں؟ تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک میرا تعلق ہے، اگر میں (تمہاری جگہ) ہوتا تو مجاہدین کے برابر کسی کو نہ سمجھتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو موت کے وقت آزاد کرے وہ اس کی مثل ہے جو سیر ہونے کے بعد تحفہ دے۔“