السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : متاع البيت يختلف فيه الزوجان باب: گھر کے سامان کا بیان جس میں میاں بیوی کا اختلاف ہو جائے۔
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ⦗٤٥٥⦘ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا رَقَبَةُ، قَالَ: قَالَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ مِنْ عِنْدِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: لَقَدْ قَضَى الْأَمِيرُ بِقَضِيَّةٍ، فَقَالَ لَهُ الشَّعْبِيُّ: وَمَا هِيَ؟ فَقَالَ: قَالَ: " مَا كَانَ لِلرَّجُلِ فَهُوَ لِلرَّجُلِ، وَمَا كَانَ لِلنِّسَاءِ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ "، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: قَضَاءُ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَ: لَا أُخْبِرُكَ، قَالَ: مَنْ هُوَ عَلَى عَهْدِ اللهِ وَمِيثَاقِهِ أَنْ لَا أُخْبِرَهُ، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: صَدَقَ وَيْحَكَ، إِنَّا لَمْ نَنْقِمْ عَلَى عَلِيٍّ قَضَاءَهُ، قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ عَلِيًّا كَانَ أَقْضَاهُمْ.رقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یزید بن ابی اسلم رحمہ اللہ حجاج کے پاس سے آئے۔ کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین نے ایک فیصلہ فرمایا، امام شعبی رحمہ اللہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ جو مرد کا سامان ہے، اسی کا ہے؛ جو عورت کا ہے اسی کا ہے، اس نے امام شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ اس آدمی کا فیصلہ جو اہل بدر میں سے تھے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کون تھے؟ کہنے لگے: میں خبر نہ دوں گا۔
پھر فرماتے ہیں کہ یہ کوئی اللہ کا عہد و میثاق نہیں کہ میں خبر نہ دوں، فرمایا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر وہ حجاج کے پاس گئے، اس کو خبر دی تو حجاج کہنے لگا: اس نے سچ بولا، ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے فیصلے کا انتقام نہ لیں گے، ہم جانتے ہیں کہ ان کا فیصلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔