السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : ما يستدل به على أن الولد الواحد لا يلحق بأمين. باب: ان دلائل کا بیان جن سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ایک بچے کا نسب دو ماؤں سے نہیں ملایا جا سکتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَكَلَ أَحَدَ ابْنَيْهِمَا الذِّئْبُ، فَجَاءَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَخْتَصِمَانِ ⦗٤٥٣⦘ فِي الْبَاقِي، فَقَضَى لِلْكُبْرَى، فَلَمَّا خَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا؟ فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَوَّلُ مَنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: السِّكِّينُ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا كُنَّا نُسَمِّيهِ الْمُدْيَةَ، " قَالَتِ الصُّغْرَى: لِمَ؟ قَالَ: لِأَشُقَّهُ بَيْنَكُمَا، قَالَتِ: ادْفَعْهُ إِلَيْهَا، وَقَالَتِ الْكُبْرَى: شُقَّهُ بَيْنَنَا، قَالَ: فَقَضَى لِلصُّغْرَى، وَقَالَ: لَوْ كَانَ ابْنَكِ لَمْ تَرْضَيْ أَنْ تَشُقِّيهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ بِسْطَامٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو عورتوں میں سے ایک کے بیٹے کو بھیڑیا کھا گیا۔ باقی ایک کا فیصلہ داود علیہ السلام سے کروانے کے لیے وہ آگئیں۔ انہوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔ جب ان کا گزر سلیمان علیہ السلام کے پاس ہوا تو انہوں نے پوچھا: تمہارا فیصلہ کیسے ہوا؟ انہوں نے بتایا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس چھری لاؤ۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ ہم نے «السِّكِّينُ» کا لفظ سنا تھا کیونکہ نبی ﷺ اس کو «الْمُدْيَةُ» کے نام سے پکارتے تھے۔ چھوٹی بولی: کیوں؟ آپ نے فرمایا: ”تاکہ دونوں کے درمیان تقسیم ہو جائے۔“ چھوٹی نے کہا: ”بچہ اس بڑی کو دے دو۔“ بڑی کہنے لگی: ”ہمارے درمیان تقسیم کر دو۔“ تب آپ نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ فرما دیا اور فرمایا: ”اگر بچہ اس کا ہوتا تو یہ کبھی اپنے بچے کو ذبح کروانے پر تیار نہ ہوتی۔“