السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : من قال: يقرع بينهما إذا لم يكن قافة. باب: جس نے کہا: اگر قیافہ شناس موجود نہ ہو تو ان دونوں (دعویداروں) کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 21285
وَقَدْ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ قَالَ أَبُو ثَوْرٍ: قَدْ كَانَ أَبُو عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي: الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: " إِذَا لَمْ يَكُنْ قَافَةٌ وَعُدِمَ الَّذِي كَانَ مِنْ قِبَلِهِ الْبَيَانُ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.حافظ ثناء اللہ
ابو ثور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبداللہ شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب قیافہ شناس نہ ہو اور وضاحت بھی نہ ہو سکے تو پھر دونوں کے درمیان قرعہ ڈالا جائے۔