السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : من قال: يقرع بينهما إذا لم يكن قافة. باب: جس نے کہا: اگر قیافہ شناس موجود نہ ہو تو ان دونوں (دعویداروں) کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی۔
وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَوِ ابْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ ثَلَاثَةً اشْتَرَكُوا فِي طُهْرِ امْرَأَةٍ، فَادَّعَوَا الْوَلَدَ، فَأَمَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا أَنْ يُقْرِعَ بَيْنَهُمْ، وَأَمَرَ الَّذِي قَرَعَ أَنْ يُعْطِيَ الْآخَرِينَ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ، وَيَكُونَ الْوَلَدُ لَهُ، وَهَذَا مَوْقُوفٌ. وَابْنُ الْخَلِيلِ يَنْفَرِدُ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْقَدِيمِ وَفِي كِتَابِ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَوْ ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بِهِ، وَكَانَتِ الْحُجَّةُ فِيهِ..ابو خلیل یا ابن خلیل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ تین آدمیوں کا گروہ عورت کے طہر میں مشترک تھا، انہوں نے بچے کا دعویٰ کر دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان قرعے سے فیصلہ فرمایا کہ جس کے نام قرعہ نکلا وہ اپنے ساتھیوں کو 2/3 دیت ادا کرے اور بچہ اس کا ہو گا۔
اس باب میں مروی روایات میں سب سے صحیح یہی ہے، اور یہ موقوف ہے، اور ابن خلیل اسے روایت کرنے میں منفرد ہے، واللہ اعلم۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ حدیث (کتاب) القدیم میں اور کتاب علی و عبداللہ میں ذکر کی ہے اور فرمایا ہے کہ اگر یہ نبی ﷺ سے ثابت ہو جاتی تو ہم اسی کے قائل ہوتے اور اسی میں حجت ہوتی۔