السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : من قال: يقرع بينهما إذا لم يكن قافة. باب: جس نے کہا: اگر قیافہ شناس موجود نہ ہو تو ان دونوں (دعویداروں) کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی۔
وَالْمَشْهُورُ فِي هَذَا الْبَابِ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ: إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَوْا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْتَصِمُونَ إِلَيْهِ فِي وَلَدٍ، وَقَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لِلِاثْنَيْنِ مِنْهُمَا: طَيِّبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا، فَغَلَبَا، ثُمَّ قَالَ لِلِاثْنَيْنِ: طَيِّبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا، فَغَلَبَا، فَقَالَ: أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ، فَمَنْ قَرَعَ فَلَهُ الْوَلَدُ، وَعَلَيْهِ لِصَاحِبَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَجَعَلَهُ لِمَنْ قَرَعَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَضْرَاسُهُ، أَوْ قَالَ: نَوَاجِذُهُ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ الْكُوفِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ مَتْرُوكٌ، وَالْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَدْ رَوَى عَنْهُ الْأَئِمَّةُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ ⦗٤٥١⦘ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى بْنُ الْقَطَّانِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْخَلِيلِ يَنْفَرِدُ بِهِ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ وَرَفْعِهِ..سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی یمن سے آیا، اس نے کہا کہ یمن کے تین آدمیوں کا گروہ ایک بچے کا جھگڑا لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے ایک ہی طہر میں ایک عورت سے صحبت کی تھی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو سے بات کی، لیکن وہ بضد رہے، پھر دوسروں سے بات کی، وہ بھی بضد تھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم برابر کے شریک ہو، میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کر دوں گا، جس کے نام قرعہ نکلا بچہ اس کا ہوگا اور اس کے ذمہ باقی ساتھیوں کے لیے دو تہائی دیت ہوگی“، تو قرعہ ڈال کر ان کا فیصلہ فرمایا تو نبی ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔
محمد بن سالم کوفی نے بھی اسے شعبی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور محمد بن سالم متروک ہے۔ اجلح بن عبداللہ سے اگرچہ ائمہ ثوری، ابن مبارک اور یحییٰ بن قطان نے روایت کی ہے، لیکن شیخین بخاری و مسلم نے اس سے حجت نہیں پکڑی، اور عبداللہ بن خلیل اسے روایت کرنے میں منفرد ہے اور اس کی سند اور مرفوع ہونے میں اس پر اختلاف کیا گیا ہے۔