السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : من قال: يقرع بينهما إذا لم يكن قافة. باب: جس نے کہا: اگر قیافہ شناس موجود نہ ہو تو ان دونوں (دعویداروں) کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلَاثَةٍ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، قَالَ: فَعَلِيٌّ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ. هَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا يُعَدُّ فِي أفْرَادِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمی آئے جو ایک عورت پر طہر کی حالت میں واقع ہوئے۔ انہوں نے دو سے سوال کیا: کیا تم بچے کا اقرار کرتے ہو؟ تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر دوبارہ دونوں سے سوال کیا: کیا تم بچے کا اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے پھر نفی میں جواب دیا۔ پھر دو سے سوال ہوا: کیا بچے کا اقرار کرتے ہو؟ تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ پھر ان کے درمیان قرعہ ڈالا گیا۔ پھر جس کے نام کا قرعہ نکلا، بچے کو اس کے ساتھ ملا دیا اور اس پر 2/3 دیت ڈال دی۔ یہ قصہ نبی ﷺ کے سامنے بیان کیا گیا تو آپ ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھ ظاہر ہوگئی۔