السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: المتداعيين يتنازعان المال وما يتنازعان فيه في أيديهما معا باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی مال پر جھگڑیں اور وہ متنازعہ مال ان دونوں کے قبضے میں ہو۔
حدیث نمبر: 21216
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، قَالَ: فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ قَالَ الشَّيْخُ: " فَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْقَضِيَّةُ مِنْ تَتِمَّةِ الْقَضِيَّةِ الْأُولَى فِي حَدِيثِ أَبِي بُرْدَةَ، فَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ ذَلِكَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ بِحُكْمِ الْيَدِ، فَطَلَبَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَمِينَ صَاحِبِهِ فِي النِّصْفِ الَّذِي حَصَلَ لَهُ، فَجَعَلَ عَلَيْهِمَا الْيَمِينَ، فَتَنَازَعَا فِي الْبِدَايَةِ بِأَحَدِهِمَا، فَأَمَرَهُمَا أَنْ يَقْتَرِعَا عَلَى الْيَمِينِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن عروبہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ جھگڑا ایک جانور کے متعلق تھا، لیکن دلیل کسی کے پاس موجود نہ تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں کے درمیان قسم کے لیے قرعہ اندازی کر لی جائے۔“
شیخ فرماتے ہیں: دونوں کا قبضہ ہو تو قسم دونوں کے ذمہ ہے۔ جب تنازع ابتدا میں ہو تو پھر قرعہ اندازی کی جائے۔