السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : المزاح لا ترد به الشهادة ما لم يخرج في المزاح إلى عضه النسب أو عضه بحد أو فاحشة باب: مذاق کی وجہ سے گواہی رد نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ مذاق میں نسب پر طعن کرنے، حد والی تہمت لگانے یا بے حیائی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 21168
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَةٍ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے سواری کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم تجھے اونٹنی کا بچہ دیں گے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”اونٹ بچہ ہی تو پیدا ہوتا ہے۔“