السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : المزاح لا ترد به الشهادة ما لم يخرج في المزاح إلى عضه النسب أو عضه بحد أو فاحشة باب: مذاق کی وجہ سے گواہی رد نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ مذاق میں نسب پر طعن کرنے، حد والی تہمت لگانے یا بے حیائی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 21167
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ ابْنٌ ⦗٤١٩⦘ لِأُمِّ سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا يُمَازِحُهُ إِذَا جَاءَ، فَدَخَلَ يَوْمًا يُمَازِحُهُ فَوَجَدَهُ حَزِينًا، فَقَالَ: " مَا لِي أَرَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا "؟ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَاتَ نُغَيْرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِ: " يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا بیٹا تھا جس کو ابوعمیر کہا جاتا تھا۔ جب وہ آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ ﷺ اس کے ساتھ خوش طبعی فرماتے، ایک دن وہ آیا تو آپ ﷺ نے اس سے خوش طبعی کی لیکن وہ پریشان تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے ابو عمیر! میں تجھ کو پریشان دیکھتا ہوں۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کی وہ چڑیا فوت ہوگئی جس سے وہ کھیلا کرتا تھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے ابو عمیر! تیری چڑیا نے کیا کیا۔“