السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما يكره أن يكون الغالب على الإنسان الشعر حتى يصده عن ذكر الله والعلم والقرآن باب: انسان پر شاعری کے اس قدر غالب ہونے کی کراہت کہ وہ اسے اللہ کے ذکر، علم اور قرآن سے غافل کر دے۔
حدیث نمبر: 21146
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: قَوْلُهُ: " حَتَّى يَرِيَهُ هُوَ مِنَ الْوَرْيِ، وَهُوِ أَنْ يَدْوَى جَوْفُهُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَسَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ يُحَدِّثُ عَنِ الشَّرْقِيِّ بْنِ الْقَطَّامِيِّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " يَعْنِي: مِنَ الشِّعْرِ الَّذِي هُجِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٤١٤⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " وَالَّذِي عِنْدِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ هَذَا الْقَوْلِ، لِأَنَّ الَّذِي هُجِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ شَطْرَ بَيْتٍ لَكَانَ كُفْرًا، وَلَكِنَّ وَجْهَهُ عِنْدِي أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَغْلِبَ عَلَيْهِ، فَيَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ، وَعَنْ ذِكْرِ اللهِ، فَيَكُونَ الْغَالِبَ عَلَيْهِ، مِنْ أِيِّ الشِّعْرِ كَانَ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ایک کا پیٹ پیپ سے بھرا ہوا ہو، وہ اس کو اپنے لیے بہتر خیال کرے اس سے کہ وہ اشعار سے بھرا ہوا ہو۔“ یعنی ایسے اشعار جس میں نبی ﷺ کی مذمت بیان کی گئی ہو۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر نصف شعر بھی ہو جس میں نبی ﷺ کی مذمت بیان کی گئی ہو تو وہ کفر ہے، لیکن میرے نزدیک یہ ہے کہ انسان کے دل پر اشعار غالب آ جائیں جس کی بنا پر وہ اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت سے دور رہے۔