حدیث نمبر: 21142
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهُ يُمْكِنُ أَنْ يُشَبِّبَ بِامْرَأَتِهِ وَجَارِيَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ (اپنے اشعار میں) اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے لیے عشقیہ اشعار کہے۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ ذِي الرُّقَيْبَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ كَعْبٌ وَبُجَيْرٌ ابْنَا زُهَيْرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِ بُجَيْرٍ، وَمَا كَانَ مِنْ شِعْرِ كَعْبٍ فِيهِ، ثُمَّ قُدُومَ كَعْبٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِسْلَامَهُ، وَإِنْشَادَهُ قَصِيدَتَهُ الَّتِي أَوَّلُهَا:.
حافظ ثناء اللہ

کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کعب اور بجیر رضی اللہ عنہما، جو زہیر کے بیٹے تھے، نکلے۔ پھر لمبی حدیث ذکر کی، جس میں بجیر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا قصہ ہے اور اس میں کعب رضی اللہ عنہ کے اشعار کا تذکرہ ہے۔ پھر کعب رضی اللہ عنہ کا نبی کریم ﷺ کے پاس آنا، اسلام قبول کرنا اور اس قصیدے کے اشعار پڑھنا جو سب سے پہلے انہوں نے لکھے تھے۔
1 سعاد جدا ہوئی تو میرا دل آج بہت اداس ہے
وہ اس کے پاس قید ہے اور اس کی قید سے نکلتا نہیں ہے
2 سعاد صبح کے وقت جدا ہوئی جب وہ (قافلے والے) روانہ ہوئے
تو میں اس وقت ناک میں گنگنا رہا تھا اور سرمگیں آنکھوں کے پپوٹے جھکے ہوئے تھے
3 جب وہ تبسم فرماتی تو دانتوں کی چمک ظاہر ہو جاتی
گویا کہ وہ میٹھے پانی کا چشمہ ہے جو شیشے سے ڈھکا ہوا ہے
پھر انہوں نے ایک لمبا قصیدہ کہا جس میں اڑتالیس اشعار تھے اور اس میں یہ اشعار بھی تھے۔
1 مجھے بتایا گیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے
اور معافی اللہ کے رسول ﷺ کے پاس ہے جس کی امید کی جاتی ہے
2 اس رسول ﷺ کے پاس ٹھہرو جس نے تجھے ایسی چیز عطا کی ہے
جس میں وعظ نصیحت اور مکمل بیان ہے
3 تو چغل خور کی باتوں کو قبول نہ کر اور
نہ ہی میں نے کوئی جرم کیا ہے اگرچہ من گھڑت باتیں مجھ سے کثرت سے سرزد ہوئی ہیں
4 یہ رسول ﷺ نور (ہدایت) ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے
اور وہ اللہ کی تلواروں میں سے سونتی ہوئی ایک تلوار ہیں
5 قریش کے نوجوانوں میں سے کہنے والے نے کہا
جب سے انہوں نے اسلام قبول کیا اس وقت سے مکہ کی وادی لرز رہی ہے۔
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے پاس سعاد والے اشعار مسجد نبوی میں پڑھے، جب ان اشعار پر پہنچے: 1 بیشک رسول ﷺ نور (ہدایت) ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اللہ کی تلواروں میں سے ننگی تلوار ہیں۔
2 قریش کے نوجوانوں میں سے کسی نے کہا، جب سے وہ مسلمان ہوئے ہیں (یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم) تب سے مکہ کی وادی لرز رہی ہے۔
تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ آئیں اور اس سے (اشعار) سنیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21142
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»