السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الشاعر يشبب بامرأة بعينها ليست مما يحل له وطؤها فيكثر فيها ويبتهرها باب: وہ شاعر جو کسی ایسی مخصوص عورت کے بارے میں عشقیہ اشعار کہے جس سے قربت اس کے لیے حلال نہ ہو، پھر وہ اس میں کثرت کرے اور اس پر جھوٹا دعویٰ (یا تہمت) باندھے۔
حدیث نمبر: 21141
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ ⦗٤١٢⦘ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْمُجَالِدِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كُنَّا نَتَنَاشَدُ الْأَشْعَارَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَأَقْبَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْنَا، فَقَالَ: أَفِي حَرَمِ اللهِ، وَعِنْدَ كَعْبَةِ اللهِ تَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ؟ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ مَعَنَا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكَ بَأْسٌ إِنْ لَمْ تَفْسَدْ نَفْسُكَ، إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَهَى عَنِ الشِّعْرِ إِذَا أُبِّنَتْ فِيهِ النِّسَاءُ، وَبُذِّرَ فِيهِ الْأَمْوَالُ.حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ہم بیت اللہ کے پاس اشعار پڑھ رہے تھے۔ ہمارے پاس ابن زبیر رضی اللہ عنہما آئے اور فرمانے لگے: کیا اللہ کے حرم اور بیت اللہ کے پاس تم اشعار پڑھ رہے ہو؟ تو ایک انصاری صحابی جو ہمارے ساتھ موجود تھے، کہنے لگے کہ اے ابن زبیر! کوئی حرج نہیں اگر آپ اپنے آپ کو خراب نہ کریں، کیونکہ نبی کریم ﷺ ”ان اشعار سے منع کرتے تھے، جن کا موضوع عورتیں ہوں اور اس میں مال خرچ کیا جائے۔“