حدیث نمبر: 21112
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَهُوَ يَقُصُّ وَهُوَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ، وَهُوَ يَذْكُرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخًا لَكُمْ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ - يَعْنِي بِذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ - قَالَ:.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے قصے بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ کرتے کہ ”تمہارا بھائی ہے، وہ بےہودہ بات نہیں کرتا“ یعنی عبداللہ بن رواحہ۔ شعر: 1 ہمارے اندر اللہ کے رسول ہیں، جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں جب بھلائی والی فجر طلوع ہوتی ہے۔
2 اس نے اندھے پن کے بعد ہمیں ہدایت دی اور ہمارے دل اس کا یقین کرنے والے ہیں، جو اس نے کہہ دیا واقع ہونے والا ہے۔
3 وہ رات گزارتا ہے کہ اس کے پہلو بستر سے جدا رہتے ہیں، جس وقت کفار کے پہلو اپنے بستروں پر بھاری ہوتے ہیں، یعنی چمٹے ہوئے ہوتے ہیں۔