حدیث نمبر: 21106
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اهْجُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقِ النَّبْلِ"، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ فَقَالَ: " اهْجُ"، فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يَرْضَ، فَأَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ حَسَّانُ: قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَى هَذَا الْأَسَدِ الضَّارِبِ بِذَنَبِهِ ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَهُ، فَجَعَلَ يُحَرِّكُهُ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْيَ الْأَدِيمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَعْجَلْ، فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ أَعْلَمُ قُرَيْشٍ بِأَنْسَابِهَا، وَإِنَّ لِي فِيهِمْ نَسَبًا حَتَّى يُخَلِّصَ لَكَ نَسَبِي"، فَأَتَاهُ حَسَّانُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ مَحَضَ لِي نَسَبَكَ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ: " إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى"، فَقَالَ حَسَّانُ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قریش کی مذمت (ہجو) کرو، یہ ان پر تیر پھینکنے سے زیادہ سخت ہے۔“ آپ ﷺ نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا اور فرمایا: ”ان کی مذمت کرو۔“ اس نے ان کی مذمت کی لیکن آپ ﷺ راضی نہ ہوئے۔ پھر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا۔ پھر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا۔ جب حسان رضی اللہ عنہ آئے تو کہنے لگے: اب میں تمہارے لیے آیا ہوں، دم ہلانے والے شیر کی جانب روانہ کرو۔ پھر زبان باہر نکال کر اس کو حرکت دی، پھر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں ان کو چمڑے کے پھاڑنے کی طرح پھاڑ ڈالوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے حسان! جلدی نہ کرنا کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ قریش کے نسب کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، چونکہ میرا نسب بھی ان میں ہے تو میرے نسب کو (ان سے) جدا کر لیا جائے۔“ پھر حضرت حسان رضی اللہ عنہ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے پھر لوٹ گئے۔ پھر آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ کا نسب (مجھ پر) واضح کر دیا گیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں آپ ﷺ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے: ”جبرائیل تیری مدد فرماتے رہیں گے، جب تک تو رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرے گا۔“ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”حسان نے ان کی مذمت کر کے خود بھی اور ہمیں بھی آرام دیا۔“ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: 1 تو نے محمد ﷺ کی مذمت کی ہے تو میں نے ان کی جانب سے جواب دیا ہے
اور اللہ کے نزدیک میرے لیے اس میں بدلہ ہے جزا ہے
2 تو نے محمد ﷺ کی برائی کی جو نیک ہیں یک سو ہیں
اللہ کے رسول ہیں، وفاداری ان کی عادت مبارکہ ہے
3 میرے ماں باپ اور میری آبرو
محمد ﷺ کی آبرو بچانے کے لیے قربان ہے
4 میں اپنی جان کھو دوں اگرچہ تم اس کو نہ دیکھو
وہ گرد و غبار کو کداء کی دونوں جانب سے اڑا دے گا
5 ایسی طاقت ور اونٹنیاں جو باگوں پر زور لگاتی ہیں اور اوپر چڑھتی ہیں
ان کے کندھوں پر تیز نوک والے برچھے ہیں جو خون کے پیاسے ہیں
6 اور ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے
جن کے منہ عورتیں اپنے دوپٹوں سے پونچھتی ہیں
7 اگر تم ہم سے منہ پھیر لو (بات نہ کرو) تو ہم عمرہ کرلیں گے
تو فتح ہوجائے گی اور پردہ اٹھ جائے گا
8 نہیں تو اس دن کی لڑائی کے لیے صبر کرو
جس دن اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور جسے چاہے گا عزت دے گا
9 اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بندے کو بھیجا ہے
جو ہمیشہ سچ بات کہتا ہے اس کی بات میں کوئی شبہ نہیں
0 اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک لشکر تیار کیا ہے
وہ انصار کا لشکر ہے جن کا کھیل کافروں سے مقابلہ کرنا ہے
! ہم تو ہر روز ایک نہ ایک تیاری میں ہیں
گالی گلوچ ہے کافروں سے، لڑائی یا ہجو ہے کافروں سے
@ تم میں سے جو اللہ کے رسول کی ہجو کرے
اور ان کی تعریف کرے یا مدد کرے وہ سب برابر ہیں
# جبرائیل امین ہم میں اللہ کے قاصد ہیں
اور روح القدس جن کا کوئی مثل نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21106