حدیث نمبر: 211
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا آدَمُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُ بِوَضُوءٍ، فَقَالَ: " تَوَضَّأْ يَا أَبَا جُبَيْرٍ ". فَبَدَأَ أَبُو جُبَيْرٍ بِفِيهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْتَدِئْ بِفِيكِ يَا أَبَا جُبَيْرٍ، فَإِنَّ الْكَافِرَ يَبْتَدِئُ بِفِيهِ ". ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ

جبیر بن نفیر اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے انہیں پانی لانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”ابو جبیر! وضو کرو۔“ انہوں نے اپنے منہ سے شروع کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابو جبیر! منہ سے شروع نہ کرو، اس لیے کہ کافر بھی اپنے منہ سے شروع کرتا ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور اپنی ہتھیلیوں کو دھو کر صاف کیا، پھر کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی چڑھایا اور تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا اور تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ کو کہنیوں سمیت دھویا اور بائیں بازو کو بھی تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے پاؤں کو دھویا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 211
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن حبان 1089»