قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " الشِّعْرُ كَلَامٌ، حَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلَامِ، وَقَبِيحُهُ كَقَبِيحِ الْكَلَامِ، غَيْرَ أَنَّهُ كَلَامٌ بَاقٍ سَائِرٌ، فَذَلِكَ فَضْلُهُ عَلَى الْكَلَامِ، فَمَنْ كَانَ مِنَ الشُّعَرَاءِ لَا يُعْرَفُ بِنَقْصِ الْمُسْلِمِينَ وَأَذَاهُمْ وَالْإِكْثَارِ مِنْ ذَلِكَ، وَلَا بِأَنَ يَمْدَحَ فَيُكْثِرَ الْكَذِبَ، لَمْ تُرَدَّ شَهَادَتُهُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”شعر (بھی) ایک کلام ہے، اس کا اچھا حصہ اچھے کلام کی طرح ہے اور اس کا برا حصہ برے کلام کی طرح ہے، البتہ یہ ایسا کلام ہے جو باقی رہتا ہے اور (لوگوں میں) پھیل جاتا ہے، اور یہی عام کلام پر اس کی فضیلت (اور امتیاز) ہے۔ پس شعراء میں سے جو شخص مسلمانوں کی عیب جوئی کرنے، انہیں ایذا پہنچانے اور اس میں کثرت کرنے میں معروف نہ ہو، اور نہ ہی اس بات میں (معروف ہو) کہ جب کسی کی مدح کرے تو بہت زیادہ جھوٹ بولے، تو اس کی گواہی رد نہیں کی جائے گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً ". لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً ".عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بعض شعر حکمت بھرے ہوتے ہیں۔“
(ب) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شعر حکمت ہے۔“