السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : شهادة أهل العصبية باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ. وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الِانْتِصَارِ مِنْ غَيْرِ تَعَدٍّ وَلَا إِظْهَارِ فُحْشٍ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ الِانْتِصَارِ، حَيْثُ قَالَتْ: " فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ "، وَالْعَفْوُ وَتَرْكُ الِانْتِصَارِ أَوْلَى.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو گالیاں دینے والوں کا وبال ابتدا کرنے والے پر ہے، جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔“
یہ بات سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی مروی ہے، اور اس میں زیادتی اور فحش گوئی کے اظہار کے بغیر بدلہ لینے کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔ اور سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے قصے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بدلہ لینے کے مباح ہونے کی دلیل ہے، جہاں وہ فرماتی ہیں: ”زینب بنت جحش ابھی گئی نہیں تھیں کہ میں نے جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے بدلہ لینے کو ناپسند نہیں فرماتے۔“ لیکن معاف کرنا اور بدلہ لینے کو چھوڑ دینا، یہ زیادہ بہتر ہے۔