السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : شهادة أهل العصبية باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21076
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ بِشْرٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ ابْنَةِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: " أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ فسیلہ بنت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اپنے والد (سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ) سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عصبیت کیا ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرنا۔“