السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : شهادة أهل العصبية باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21071
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أِيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَائِشَةُ "، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: " أَبُوهَا "، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ عُمَرُ "، فَعَدَّ رِجَالًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْوَاسِطِيِّ وَهُوَ إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ذات السلاسل کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا، کہتے ہیں: میں آیا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ یحییٰ کی حدیث میں ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا: ”عائشہ (رضی اللہ عنہا)۔“ میں نے کہا: مردوں میں؟ فرمایا: ”اس کا باپ۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”عمر (رضی اللہ عنہ)۔“ آپ نے کئی آدمیوں کو شمار کیا۔