السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : البكاء عند قراءة القرآن باب: تلاوتِ قرآن کے وقت رونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ قُرَيْشٍ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، وَصَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فَأَتَيْتُهُ مُسَلِّمًا، فَنَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي، بَلَغَنِي أَنَّكَ حَسَنُ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ، فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْكُوا، فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا ". لَفْظُ حَدِيثِ السُّلَمِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَأَتَيْتُهُ مُسَلِّمًا، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، فَذَكَرَهُ وَزَادَ فِي آخِرِهِ: " وَتَغَنَّوْا بِهِ، فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا ".عبدالرحمن بن سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ آئے۔ میں انہیں سلام کرتے ہوئے ان کے پاس آیا۔ انہوں نے مجھ سے میرا نسب پوچھا اور میں نے انہیں اپنا نسب بیان کیا، تو انہوں نے کہا: بھتیجے کو خوش آمدید ہو۔ کہنے لگے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ خوبصورت آواز والے ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”یہ قرآن حزن (غم) کے ساتھ نازل ہوا ہے، جب تم اس کی تلاوت کرو تو رویا کرو، اگر رو نہ سکو تو رونے والی شکل بنا لو۔“
(ب) ابوعبداللہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے جبکہ ان کی نظر جا چکی تھی، میں انہیں سلام کہتے ہوئے ان کے پاس حاضر ہوا۔ پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں خبر دی تو انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! پھر یہی حدیث ذکر کی، اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے: ”اور اسے خوش الحانی سے پڑھو، جو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“