السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : تحسين الصوت بالقرآن والذكر باب: قرآن اور ذکر کے ساتھ آواز کو خوبصورت بنانے کا بیان۔
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: " مَا أَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ كَإِذْنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ": أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ وَالْمَحْفُوظُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ: " كَأَذَنِهِ "، وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ: " كَإِذْنِهِ "، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فِي قَوْلِهِ " كَأَذَنِهِ " يَعْنِي: مَا اسْتَمَعَ اللهُ لِشَيْءٍ كَاسْتِمَاعِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، وَلَمْ يَرْضَ، وَمِنْ رِوَايَةِ مِنْ رَوَى " كَإِذْنِهِ " قَالَ: وَقَوْلُهُ: " يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ "، إِنَّمَا مَذْهَبُهُ عِنْدَنَا تَحْزِينُ الْقِرَاءَةِ، قَالَ: وَمِنْ ذَلِكَ حَدِيثُهُ الْآخَرُ، يَعْنِي:.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اس نبی کو سنتا ہے جو قرآن کو ترنم سے پڑھتا ہے۔“
(ب) اس روایت میں محفوظ الفاظ «كَأَذَنِهِ» (جیسے وہ سنتا ہے) ہیں، اور بعض «كَإِذْنِهِ» (جیسے وہ اجازت دیتا ہے) کہتے ہیں۔ ابوعبید فرماتے ہیں: «كَأَذَنِهِ» کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اس نبی کو سنتا ہے جو قرآن کو ترنم سے پڑھتا ہے، اور وہ «كَإِذْنِهِ» روایت کرنے والوں کی روایت سے راضی نہیں ہوئے۔ فرمایا: اور آپ ﷺ کے فرمان «يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ» کا مطلب ہمارے نزدیک قراءت کو غمگین (پُرسوز) انداز میں پڑھنا ہے۔ فرمایا: اور اسی قبیل سے آپ ﷺ کی دوسری حدیث ہے، یعنی: