السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا بأس باستماع الحداء، ونشيد الأعراب، كثر أو قل باب: حدی خوانی اور دیہاتیوں کے اشعار سننے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ۔
حدیث نمبر: 21028
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " هِيهِ "، قَالَ: فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: " هِيهِ "، قَالَ: فَأَنْشَدْتُهُ حَتَّى بَلَغْتُ مِائَةَ بَيْتٍ..حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شرید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے پیچھے بٹھایا اور فرمایا: ”کیا امیہ بن ابی صلت کا کوئی شعر یاد ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: ”سناؤ۔“ کہتے ہیں: میں نے ایک شعر سنایا تو فرمایا: ”اور سناؤ۔“ یہاں تک کہ سو اشعار سنا دیے۔