السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من رخص في الرقص إذا لم يكن فيه تكسر وتخنث باب: جس نے رقص کی رخصت دی بشرطیکہ اس میں نزاکت اور زنانہ پن نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21027
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خُشَيْشٍ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ، فَقَالَ لِزَيْدٍ: " أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا "، فَحَجَلَ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: " أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي "، فَحَجَلَ وَرَاءَ حَجْلِ زَيْدٍ، ثُمَّ قَالَ لِي: " أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ "، فَحَجَلْتُ وَرَاءَ حَجْلِ جَعْفَرٍ قَالَ الشَّيْخُ: " هَانِئُ بْنُ هَانِئٍ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ جِدًّا، وَفِي هَذَا - إِنْ صَحَّ - دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الْحَجْلِ، وَهُوَ أَنْ يَرْفَعَ رِجْلًا، وَيَقْفِزَ عَلَى الْأُخْرَى مِنَ الْفَرَحِ، فَالرَّقْصُ الَّذِي يَكُونُ عَلَى مِثَالِهِ يَكُونُ مِثْلَهُ فِي الْجَوَازِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ہانی بن ہانی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے؛ میں، جعفر اور زید، تو آپ ﷺ نے زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم ہمارے بھائی اور دوست ہو“، تو انہوں نے پاؤں اٹھا کر رکھا اور جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم سیرت و صورت میں میرے مشابہ ہو“، تو انہوں نے زید رضی اللہ عنہ کے پاؤں اٹھانے کے بعد اپنا پاؤں اٹھایا، پھر مجھے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں“، تو میں نے جعفر رضی اللہ عنہ کے پاؤں اٹھانے کے بعد پاؤں اٹھایا۔ یہ خوشی کی وجہ سے پاؤں اٹھا کر نیچے مارنا ہے اور رقص بھی اسی کے مثل ہوتا ہے۔