السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل يغني فيتخذ الغناء صناعة يؤتى عليه، ويأتي له، ويكون منسوبا إليه، مشهورا به معروفا، أو المرأة باب: جو مرد گانا گائے اور اسے پیشہ بنا لے جس کے لیے اس کے پاس آیا جائے اور وہ اس کے لیے دوسروں کے پاس جائے، اور وہ اس کی طرف منسوب ہو کر اسی حوالے سے مشہور اور معروف ہو جائے، یا کوئی عورت ایسا کرے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَذَلِكَ أَنَّهُ مِنَ اللهْوِ الْمَكْرُوهِ الَّذِي يُشْبِهُ الْبَاطِلَ، فَإِنَّ مَنْ صَنَعَ هَذَا كَانَ مَنْسُوبًا إِلَى السَّفَهِ وَسَقَاطَةِ الْمُرُوءَةِ، وَمَنْ رَضِيَ هَذَا لِنَفْسِهِ كَانَ مُسْتَخِفًّا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُحَرَّمًا بَيِّنَ التَّحْرِيمِ..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے کسی ایک کی گواہی بھی جائز نہیں، اور یہ اس لیے کہ یہ اس ناپسندیدہ لہو (کھیل تماشے) میں سے ہے جو باطل کے مشابہ ہے، کیونکہ جو شخص یہ کام کرے اسے بے وقوفی اور مروت کی پستی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، اور جو اسے اپنے لیے پسند کرے وہ (اپنی عزت کو) ہلکا سمجھنے والا ہے، اگرچہ یہ واضح طور پر حرام نہیں ہے...“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا حُمَيْدٌ الْخَرَّاطُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ} [لقمان: ٦] قَالَ: " هُوَ وَاللهِ الْغِنَاءُ ".ابو صہباء، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة لقمان: 6] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس سے مراد گانا بجانا ہے۔