السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في ذم الملاهي من المعازف والمزامير ونحوها باب: آلاتِ موسیقی جیسے باجوں، بانسریوں اور اس طرح کے دیگر لہو و لعب کے آلات کی مذمت میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21002
وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: " إِنَّ فِيمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مُوسَى: إِنَّا أَنْزَلْنَا الْحَقَّ لِنُبْطِلَ بِهِ الْبَاطِلَ، وَنُبْطِلَ بِهِ اللَّعِبَ وَالْمَزَامِيرَ وَالْكِنَّارَاتِ وَالشِّعْرَ وَالْخَمْرَ، فَأَقْسَمَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ: لَا يَتْرُكُهَا عَبْدٌ خَشْيَةً مِنِّي إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنْ حِيَاضِ الْقُدُسِ. قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَأَلْتُ أَبَا مَوْدُودٍ: مَا الْمَزَامِيرُ؟ قَالَ: الدُّفُوفُ الْمُرَبَّعَةُ، فَقُلْتُ: مَا الْكِنَّارَاتُ؟ قَالَ: الطَّنَابِيرُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ شَعْثَمُ بْنُ أَصِيلٍ الْعِجْلِيُّ إِمْلَاءً بِجَنْجَرُوذَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو مَوْدُودٍ الْمَدَنِيُّ فَذَكَرَهُ مَعَ التَّفْسِيرِ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ کعب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا: ”ہم حق کو نازل ہی اس لیے کرتے ہیں تاکہ باطل ختم ہو جائے اور ہم کھیلوں، گانے بجانے کے آلات، اشعار اور شراب کو بھی باطل کر دیں، میرے رب نے قسم اٹھائی ہے کہ جو بندہ میرے حکم کی وجہ سے ان کو ترک کر دے گا، میں اس کو پاکیزہ حوضوں سے پلاؤں گا۔“ زید بن حباب کہتے ہیں: میں نے ابو مودود سے سوال کیا کہ «الْمَزَامِيرُ» کیا ہوتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”مربع شکل کی دف۔“ میں نے کہا: «الْكِنَارَاتُ» کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”لکڑیاں۔“