السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في ذم الملاهي من المعازف والمزامير ونحوها باب: آلاتِ موسیقی جیسے باجوں، بانسریوں اور اس طرح کے دیگر لہو و لعب کے آلات کی مذمت میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْغُدَانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ، مِزْمَارًا قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: " يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ "، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ وَقَالَ: " كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا، فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا. وَفِي رِوَايَةِ الْقَاضِي قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ زَمْرَ رِعَاءٍ، فَتَرَكَ الطَّرِيقَ وَجَعَلَ يَقُولُ: " هَلْ تَسْمَعُ؟ "، قُلْتُ: لَا، ثُمَّ عَارَضَ الطَّرِيقَ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ".نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے گانے کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں کانوں میں لے لیں اور راستے سے ایک طرف چلے گئے اور مجھ سے کہا: ”اے نافع! کیا کچھ سن رہے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ تب انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں۔ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے گانے کی آواز سنی تو اس طرح کیا تھا۔
(ب) قاضی کی روایت میں ہے کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا۔ انہوں نے گانے کی آواز سنی تو راستہ چھوڑ دیا اور مجھ سے کہنے لگے: ”کیا سن رہے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ پھر راستے کی طرف واپس آئے۔ پھر فرمانے لگے: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا۔“