السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في ذم الملاهي من المعازف والمزامير ونحوها باب: آلاتِ موسیقی جیسے باجوں، بانسریوں اور اس طرح کے دیگر لہو و لعب کے آلات کی مذمت میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيَّ، وَفَدَ دِمَشْقَ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَّا، فَذَكَرْنَا الطِّلَاءَ، فَمِنَّا الْمُرَخِّصُ فِيهِ، وَمِنَّا الْكَارِهُ لَهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بَعْدَمَا خُضْنَا فِيهِ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَيَشْرَبَنَّ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، وَيُضْرَبُ عَلَى رُءُوسِهِمُ الْمَعَازِفُ وَالْمُغَنِّيَاتُ، يَخْسِفُ اللهُ ⦗٣٧٤⦘ بِهِمُ الْأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ ". وَلِهَذَا شَوَاهِدُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.مالک بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن غنم اشعری دمشق آئے تو ہمارا ایک گروہ ان کے پاس جمع ہو گیا، ہم نے طلاء (انگور کا پکا کر گاڑھا کیا ہوا مشروب) کا تذکرہ کیا، ہم میں سے بعض اس کی رخصت دیتے تھے اور بعض ناپسند کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: جب ہم اس بحث میں پڑ چکے تو میں ان کے پاس آیا، وہ کہنے لگے: میں نے نبی ﷺ کے صحابی ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا، جو آپ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ شراب پیا کریں گے، لیکن نام تبدیل کر کے، اور ان کے سروں پر باجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی، تو اللہ ان کو زمین میں دھنسا دیں گے؛ اور ان میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دیں گے۔“