السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في ذم الملاهي من المعازف والمزامير ونحوها باب: آلاتِ موسیقی جیسے باجوں، بانسریوں اور اس طرح کے دیگر لہو و لعب کے آلات کی مذمت میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20988
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ الْكِلَابِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، أَوْ أَبُو مَالِكٍ، وَاللهِ مَا كَذَبَنِي، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَكُونَنَّ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ، وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ، تَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَةٌ لَهُمْ، فَيَأْتِيهِمْ رَجُلٌ لِحَاجَتِهِ، فَيَقُولُونَ: ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا، فَيُبَيِّتُهُمُ اللهُ، فَيَضَعُ الْعَلَمَ، وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن غنم اشعری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعامر یا ابو مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس نے کبھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولا، اس نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو ریشم، شراب اور گانے بجانے کے آلات کو جائز خیال کریں گے اور ایسی قوم جو پہاڑ کے دامن میں اترے گی ان کے جانور شام کو چر کر واپس آئیں گے۔ ایک آدمی اپنی ضرورت ان کے سامنے رکھے گا، وہ کہیں گے: کل آنا۔ اللہ ان پر رات کے وقت پہاڑ گرا دے گا اور دوسروں کی شکلیں بگاڑ دے گا، قیامت تک کے لیے بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“