السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في المراجيح باب: جھولے جھولنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " تَزَوَّجَنِي "، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لِسِتِّ سِنِينَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ نَزَلْنَا السُّنْحَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ "، قَالَتْ: " فَإِنِّي لَأَرْجِحُ بَيْنَ عِذْقَيْنِ وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعٍ، إِذْ جَاءَتْ أُمِّي فَأَنْزَلَتْنِي، ثُمَّ مَشَتْ بِي حَتَّى انْتَهَتْ بِي إِلَى الْبَابِ وَأَنَا أُنْهِجُ، فَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، وَفَرَقَتْ جُمَيْمَةً كَانَتْ لِي، وَدَخَلَتْ بِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ، فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُكَ، فَبَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهِمْ، وَبَارَكْ لَهُمْ فِيكَ، وَقَامَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَخَرَجُوا، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میری شادی نبی ﷺ سے چھ سال کی عمر میں ہوئی۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو بنو حارث بن خزرج کے ہاں باغ میں اترے۔ میں نے دو خوشوں کے درمیان ایک کو ترجیح دی تھی۔ اس وقت میری عمر نو برس کی تھی۔ اچانک میری والدہ میرے پاس آئیں، مجھے لے کر چلیں اور دروازے تک جا پہنچیں۔ میں تھک چکی تھی۔ میری والدہ نے میرا چہرہ پانی سے صاف کیا اور میری مانگ نکالی اور رسول اللہ ﷺ کے پاس چھوڑ آئیں۔ وہاں انصاری عورتیں تھیں اور مرد بھی، وہ کہنے لگیں: «بَارَكَ اللهُ لَكِ، وَبَارَكَ عَلَيْكِ» ”یہ آپ کا گھر ہے، اللہ آپ کو برکت دے اور ان کو آپ کے لیے برکت دے۔“ مرد اور عورتیں چلے گئے اور نبی ﷺ نے مجھ سے بنا کی۔“