❮
❯
حدیث نمبر: 20983
عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ ابْنَةُ سَبْعِ سِنِينَ، وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ⦗٣٧٢⦘ فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ أَنَّهَا كَانَتْ بَلَغَتْ مَبْلَغَ النِّسَاءِ بِغَيْرِ السِّنِّ فِي وَقْتِ زِفَافِهَا، فَيُحْتَمَلُ إِنْ كَانَ انْشِغَالُهَا بِلُعِبِهَا وَتَقْرِيرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى وَقْتِ بُلُوغِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَعَلَى هَذَا حَمَلَهُ أَبُو عُبَيْدٍ فَقَالَ: " وَلَيْسَ وَجْهُ ذَلِكَ عِنْدَنَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَهْوٌ لِلصِّبْيَانِ، فَلَوْ كَانَ لِلْكِبَارِ لَكَانَ مَكْرُوهًا " وَذَكَرَ الْحَلِيمِيُّ أَنَّهُ: إِنْ عُمِلَ مِنْ خَشَبٍ أَوْ حَجَرٍ أَوْ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ شَبَهَ آدَمَيٍّ تَامِّ الْأَطْرَافِ كَالْوَثَنِ وَجَبَ كَسْرُهُ، وَلَمْ يَجُزْ إِطْلَاقُ إِمْسَاكِهِ لَهُنَّ، فَأَمَّا إِذَا كَانَتِ الْوَاحِدَةُ مِنْهُنَّ تَأْخُذُ خِرْقَةً فَتَلُفُّهَا ثُمَّ تُشَكِّلُهَا بِشَكْلٍ مِنْ أَشْكَالِ الصَّبَايَا وَتُسَمِّيهَا بِنْتًا أَوْ أُمَّا، وَتَلْعَبُ بِهَا فَلَا تُمْنَعُ مِنْهَا "، وَذَكَرَ مَا فِي ذَلِكَ مِنَ انْبِسَاطِ قَلْبِهَا وَحُسْنِ نَشْوِهَا، وَمُمَارَسِتِهَا مُعَالَجَةَ الصِّبْيَانِ ".
حافظ ثناء اللہ

عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے ان کی شادی 7 سال کی عمر میں ہوئی اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی۔ ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے اور جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو ان کی عمر 18 برس کی تھی۔
(ب) کسی بھی روایت میں یہ نہیں ہے کہ رخصتی کے وقت وہ عمر کے علاوہ (کسی اور علامت سے) عورتوں کی حد (بلوغت) کو پہنچ چکی تھیں، لہٰذا ممکن ہے کہ ان کا کھلونوں میں مشغول رہنا اور نبی ﷺ کا انہیں اس پر برقرار رکھنا ان کے بالغ ہونے کے وقت تک ہو، واللہ اعلم۔ ابوعبید نے بھی اسے اسی پر محمول کیا اور فرمایا: ”ہمارے نزدیک اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ بچوں کا کھیل ہے، اگر یہ بڑوں کے لیے ہوتا تو مکروہ ہوتا۔“ حلیمی نے بیان کیا کہ اگر لکڑی، پتھر، پیتل یا تانبے سے مکمل اعضاء والے انسان کی شکل بت کی طرح بنائی جائے تو اس کا توڑنا واجب ہے اور ان (بچیوں) کو اسے رکھنے کی اجازت نہیں، البتہ اگر ان میں سے کوئی کپڑے کا ٹکڑا لے کر اسے لپیٹے، پھر اسے بچیوں کی شکل دے اور اس کا نام بیٹی یا ماں رکھ کر اس سے کھیلے تو اسے منع نہیں کیا جائے گا۔ اور انہوں نے اس میں بچی کے دل کی خوشی، اچھی نشوونما اور بچوں کی دیکھ بھال کی مشق (کے فوائد) کا ذکر کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20983
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»