السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في اللعب بالبنات باب: گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ ابْنَةُ سَبْعِ سِنِينَ، وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ⦗٣٧٢⦘ فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ أَنَّهَا كَانَتْ بَلَغَتْ مَبْلَغَ النِّسَاءِ بِغَيْرِ السِّنِّ فِي وَقْتِ زِفَافِهَا، فَيُحْتَمَلُ إِنْ كَانَ انْشِغَالُهَا بِلُعِبِهَا وَتَقْرِيرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى وَقْتِ بُلُوغِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَعَلَى هَذَا حَمَلَهُ أَبُو عُبَيْدٍ فَقَالَ: " وَلَيْسَ وَجْهُ ذَلِكَ عِنْدَنَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَهْوٌ لِلصِّبْيَانِ، فَلَوْ كَانَ لِلْكِبَارِ لَكَانَ مَكْرُوهًا " وَذَكَرَ الْحَلِيمِيُّ أَنَّهُ: إِنْ عُمِلَ مِنْ خَشَبٍ أَوْ حَجَرٍ أَوْ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ شَبَهَ آدَمَيٍّ تَامِّ الْأَطْرَافِ كَالْوَثَنِ وَجَبَ كَسْرُهُ، وَلَمْ يَجُزْ إِطْلَاقُ إِمْسَاكِهِ لَهُنَّ، فَأَمَّا إِذَا كَانَتِ الْوَاحِدَةُ مِنْهُنَّ تَأْخُذُ خِرْقَةً فَتَلُفُّهَا ثُمَّ تُشَكِّلُهَا بِشَكْلٍ مِنْ أَشْكَالِ الصَّبَايَا وَتُسَمِّيهَا بِنْتًا أَوْ أُمَّا، وَتَلْعَبُ بِهَا فَلَا تُمْنَعُ مِنْهَا "، وَذَكَرَ مَا فِي ذَلِكَ مِنَ انْبِسَاطِ قَلْبِهَا وَحُسْنِ نَشْوِهَا، وَمُمَارَسِتِهَا مُعَالَجَةَ الصِّبْيَانِ ".عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے ان کی شادی 7 سال کی عمر میں ہوئی اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی۔ ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے اور جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو ان کی عمر 18 برس کی تھی۔
(ب) حمید عبدالرزاق سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ان کی رخصتی ہوئی تو وہ بالغ ہو چکی تھیں۔ ممکن ہے بلوغت کے بعد بھی نبی ﷺ نے ان کے کھلونے ان کے پاس رہنے دیے لیکن ہمارے نزدیک کھلونے بچوں کے لیے ہوتے ہیں بڑوں کے لیے نہیں۔ حلیمی نے بیان کیا کہ وہ پتھر، تانبہ، لکڑی وغیرہ کی بنی ہوئی چیزیں تھیں جیسے بت ہوتے ہیں، ان کا توڑنا ضروری تھا۔ ان کا رکھنا جائز نہیں ہے۔ اگر وہ خالی کپڑے کی بنائی گئی ہوں اور ان کا نام کھلونے رکھ دیا ہو، پھر ممانعت نہیں ہے۔