السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في اللعب بالبنات باب: گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَدْ نَصَبْتُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي عَبَاءَةً، وَعَلَى عُرْضِ بَيْتِي سِتْرًا أَرْمِنِيًّا، فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: " مَا لِي يَا عَائِشَةُ وَالدُّنْيَا؟ "، فَهَتَكَ السِّتْرَ حَتَّى وَقَعَ بِالْأَرْضِ، وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ، فَهَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ "، قَالَتْ: بَنَاتِي، قَالَتْ: وَرَأَى بَيْنَ طُوبِهَا فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رُقَعٍ، قَالَ: " فَمَا هَذَا الَّذِي أَرَى فِي وَسَطِهِنَّ؟ "، قَالَتْ: فَرَسٌ، قَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟ "، قَالَتْ: جَنَاحَانِ، قَالَ: " فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟ "، قَالَتْ: أَوَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ خَيْلًا لَهُ أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ خَيْبَرَ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّهْيُ عَنِ التَّصَاوِيرِ وَالتَّمَاثِيلِ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ عَنْهُ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمَحْفُوظُ فِي رِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قُدُومَهُ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، وَأَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الصُّوَرِ وَالتَّمَاثِيلِ، ثُمَّ كَانَ تَحْرِيمُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَمِنْ جُمْلَةِ مَنْ رَوَى النَّهْيَ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَإِسْلَامُهُ كَانَ زَمَنَ خَيْبَرَ، فَيَكُونُ السَّمَاعُ بَعْدَهُ. وَفِي حَدِيثِ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا، فَلَمْ يَدْخُلْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهَا " قَالَ الشَّيْخُ: " زَمَنُ الْفَتْحِ كَانَ بَعْدَ خَيْبَرَ، وَأَيْضًا فَإِنَّهَا كَانَتْ صَغِيرَةً فِي الْوَقْتِ الَّذِي زُفَّتْ فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا اللُّعَبُ، ثَبَتَ:.ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آئے اور میں نے اپنے حجرہ کے دروازے پر چادر تان رکھی تھی۔ میرے گھر کی چوڑائی کی جانب پردہ تھا۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے، پردہ دیکھا اور فرمایا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے پردہ پھاڑ دیا اور زمین پر گرا دیا۔ اس طاق کے اندر میری گڑیاں تھیں۔ ہوا کے چلنے کی وجہ سے وہ نظر آنے لگیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ عرض کیا: ”میرے کھلونے۔“ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ان کے درمیان ایک گھوڑا تھا جس کے کپڑے کے پر تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ درمیان میں کیا ہے؟“ کہنے لگی: ”گھوڑا۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کے اوپر کیا ہے؟“ کہتی ہیں: ”اس کے دو پر۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا گھوڑے کے پر ہوتے ہیں؟“ کہنے لگیں: ”کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس گھوڑا تھا، اس کے پر تھے؟“ آپ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ غزوہ تبوک یا خیبر سے واپس ہوئے۔ آپ ﷺ سے تصاویر کی حرمت ثابت ہے، ممکن ہے یہ واقعہ حرمت سے پہلے کا ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ممانعت والی حدیث کے راوی ہیں۔ یہ غزوہ خیبر کے زمانہ میں مسلمان ہوئے ہیں۔ ممکن ہے ان کا سماع بعد میں ہو۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے زمانہ میں جب وہ بطحا مقام پر تھے، حکم دیا کہ کعبہ سے تمام تصاویر ختم کر دی جائیں، نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے جب تمام صورتیں ختم کر دی گئی تھیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فتح کا زمانہ خیبر کے بعد کا ہے۔ اس وقت وہ چھوٹی تھیں، جب ان کی رخصتی نبی ﷺ کے ساتھ کی گئی۔ ان کے ساتھ کھلونے تھے۔