السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما لا ينهى عنه من اللعب باب: وہ کھیل جن سے منع نہیں کیا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ عَمْرٌو، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " دَعْهُمَا "، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا، وَقَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: " تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ، خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ "، حَتَّى إِذَا مَلَلْتُ قَالَ: " حَسْبُكِ؟ "، قُلْتُ، نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبِي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَيُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ میرے پاس آئے اور میرے پاس دو بچیاں گانے والی تھیں، جو جنگِ بعاث کے متعلق اشعار پڑھ رہی تھیں۔ آپ ﷺ لیٹ گئے اور چہرہ پھیر لیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا: یہ شیطانی ساز ہے، رسول اللہ ﷺ کے پاس! تو نبی ﷺ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”ان دونوں کو چھوڑ دو۔“ جب وہ غافل ہوئے تو میں نے چپکے سے دونوں کو نکال دیا۔ فرماتی ہیں: جب عید کا دن تھا اس دن سودانی تیروں اور نیزوں وغیرہ سے کھیل رہے تھے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم دیکھنا چاہتی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ ﷺ کے رخسار پر تھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے بنو ارفدہ! تیر اندازی کو لازم پکڑو۔“ یہاں تک کہ میں تھک گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کافی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ۔“