السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : كراهية اللعب بالنرد أكثر من كراهية اللعب بالشيء من الملاهي لثبوت الخبر فيه وكثرته باب: چوسر (نرد) کھیلنے کی کراہت دیگر تمام لہو و لعب کی چیزوں سے زیادہ ہے کیونکہ اس بارے میں کثرت سے احادیث ثابت ہیں۔
حدیث نمبر: 20963
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، أنبأ عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ يَلْعَبُونَ بِالنَّرْدِ فَقَالَ: " قُلُوبٌ لَاهِيَةٌ، وَأَيْدٍ عَامِلَةٌ، وَأَلْسِنَةٌ لَاغِيَةٌ " هَذَا مُرْسَلٌ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی قوم کے پاس سے گزرے، جو نرد کھیل رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے دل مشغول ہیں اور ہاتھ کام کرنے والے ہیں اور زبانیں لغو باتیں کرتی ہیں۔“