السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : كراهية اللعب بالنرد أكثر من كراهية اللعب بالشيء من الملاهي لثبوت الخبر فيه وكثرته باب: چوسر (نرد) کھیلنے کی کراہت دیگر تمام لہو و لعب کی چیزوں سے زیادہ ہے کیونکہ اس بارے میں کثرت سے احادیث ثابت ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ فَقَالَ: " يَا أَهْلَ مَكَّةَ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ يَلْعَبُونَ لُعْبَةً يُقَالُ لَهَا: النَّرْدَشِيرُ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ} [المائدة: ٩٠] الْآيَةَ كُلَّهَا، وَإِنِّي أُقْسِمُ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا أُوتَى بِرَجُلٍ لَعِبَ بِهَذِهِ إِلَّا عَاقَبْتُهُ فِي شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ، وَأَعْطَيْتُ سَلَبَهُ مَنْ أَتَانِي بِهِ ".ربیعہ بن کلثوم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں مکہ میں خطبہ ارشاد فرمایا، کہنے لگے: اے اہل مکہ! مجھے خبر ملی ہے کہ قریشی نرد سے کھیلتے ہیں اور اللہ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾ [سورة المائدة: 90] ”اے ایمان والو! شراب، جوا اور پانسے کے تیر شیطانی پلید عمل ہیں تم اس سے بچو۔“
میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں جو نرد کھیلنے والا مرد میرے پاس لایا گیا تو میں اس کو جسمانی سزا دوں گا اور اس کا مال میں لانے والے کو دے دوں گا۔