السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية تأخير العصر باب: عصر کی نماز میں تاخیر کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2093
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ ثنا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سالم اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا، جس کی عصر کی نماز رہ جائے کہ (وہ ایسا ہے) گویا: ”اس کے گھر والے اور مال و متاع کو لوٹ لیا گیا ہو۔“