السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما تجوز به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی جائز قرار پائے گی۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " كُلُّ مَنْ تَأَوَّلَ فَأَتَى شَيْئًا مُسْتَحِلًّا كَانَ فِيهِ حَدٌّ أَوْ لَمْ يَكُنْ لَمْ تُرَدَّ شَهَادَتُهُ بِذَلِكَ، أَلَا تَرَى أَنَّ مِمَّنْ حُمِلَ عَنْهُ الدِّينُ، وَنُصِبَ عَلَمًا فِي الْبُلْدَانِ مَنْ قَدِ اسْتَحَلَّ الْمُتْعَةَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَحِلُّ الدِّينَارَ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، يَدًا بِيَدٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَدْ تَأَوَّلَ فَاسْتَحَلَّ سَفْكَ الدِّمَاءِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأَوَّلَ فَشَرِبَ كُلَّ مُسْكِرٍ غَيْرَ الْخَمْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَحَلَّ إِتْيَانَ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَحَلَّ بُيُوعًا مُحَرَّمَةً عِنْدَ غَيْرِهِ، فَإِذَا كَانَ هَؤُلَاءِ - مَعَ مَا وَصَفْتُ - أَهْلَ ثِقَةٍ فِي دِينِهِمْ، وَقَنَاعَةٍ عِنْدَ مَنْ عَرَفَهُمْ، وَقَدْ تُرِكَ عَلَيْهِ مَا تَأَوَّلُوا فَأَخْطَئُوا فِيهِ، وَلَمْ يَخْرُجُوا بِعَظِيمِ الْخَطَأِ إِذَا كَانَ مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِحْلَالِ كَانَ جَمِيعُ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ فِي هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ ".امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر وہ شخص جس نے (کسی دلیل کی) تاویل کی اور پھر اسے حلال سمجھتے ہوئے کسی کام کا ارتکاب کیا، خواہ اس میں حد ہو یا نہ ہو، تو اس کی وجہ سے اس کی گواہی رد نہیں کی جائے گی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں سے دین (کا علم) حاصل کیا گیا اور جنہیں شہروں میں (علم کا) نشان بنایا گیا، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے متعہ کو حلال سمجھا، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ایک دینار کو دس دیناروں کے بدلے دست بدست (بیچنا) حلال سمجھتے ہیں، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے تاویل کر کے خون بہانے کو حلال سمجھا، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے تاویل کر کے شراب (خمر) کے علاوہ ہر نشہ آور چیز پی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے عورتوں کی پچھلی شرمگاہ میں آنے کو حلال قرار دیا، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ایسی بیوع کو حلال قرار دیا جو دوسروں کے نزدیک حرام ہیں۔ تو جب یہ لوگ، باوجود اس کے جو میں نے بیان کیا، اپنے دین میں قابل اعتماد ہیں اور جو انہیں جانتے ہیں ان کے نزدیک پسندیدہ ہیں، اور ان کی ان تاویلات کو، جن میں انہوں نے غلطی کی، (قابل گرفت سمجھے بغیر) چھوڑ دیا گیا ہے، اور جب ان کی طرف سے یہ حلال سمجھنے کی بنیاد پر ہوا تو وہ اس بڑی غلطی کی وجہ سے (عدالت سے) خارج نہیں ہوئے، تو تمام اہل اہواء (بدعتی) بھی اسی درجے میں ہوں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي مَنِيعٍ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ يَزِيدُ بْنُ عُمَيْرَةَ صَاحِبُ مُعَاذٍ أَنَّ مُعَاذًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ كُلَّمَا جَلَسَ مَجْلِسَ ذِكْرٍ: " اللهُ حَكَمٌ عَدْلٌ "، وَقَالَ أَبُو الْيَمَانِ: " قِسْطٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ، هَلَكَ الْمُرْتَابُونَ "، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَوْمًا فِي مَجْلِسٍ جَلَسَهُ: " وَرَاءَكُمْ فِتَنٌ يَكْثُرُ فِيهَا الْمَالُ، وَيُفْتَحُ فِيهَا الْقُرْآنُ، حَتَّى يَأْخُذَهُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ وَالْحُرُّ وَالْعَبْدُ وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَبِيرُ وَالصَّغِيرُ، فَيُوشِكُ قَائِلٌ أَنْ يَقُولُ: فَمَا لِلنَّاسِ لَا يَتَّبِعُونِي وَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ؟ واللهِ مَا هُمْ بِمُتَّبِعِيَّ حَتَّى أَبْتَدِعَ لَهُمْ غَيْرَهُ، فَإِيَّاكُمْ وَمَا ابْتُدِعَ، فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلَالَةٌ، وَاحْذَرُوا زَيْغَةَ الْحَكِيمِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالِ عَلَى فَمِ الْحَكِيمِ، وَقَدْ يَقُولُ الْمُنَافِقُ كَلِمَةَ الْحَقِّ "، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: وَمَا يُدْرِينِي، يَرْحَمُكَ اللهُ، أَنَّ الْحَكِيمَ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ، وَأَنَّ الْمُنَافِقَ يَقُولُ كَلِمَةَ الْحَقِّ؟ قَالَ: " اجْتَنِبْ مِنْ كَلَامِ الْحَكِيمِ الْمُشْتَبِهَاتِ الَّتِي تَقُولُ مَا هَذِهِ؟ وَلَا يُنْئِيَنَّكَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَإِنَّهُ لَعَلَّهُ أَنْ يُرَاجِعَ وَيُلَقَّى الْحَقَّ إِذَا سَمِعَهُ، فَإِنَّ عَلَى الْحَقِّ نُورًا ". وَفِي رِوَايَةِ الْقَاضِي: " وَلَا يُثْنِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ " وَرَوَاهُ عُقَيْلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَلَا يُثْنِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ " فَأَخْبَرَ مُعَاذُ بْنُ ⦗٣٥٦⦘ جَبَلٍ أَنَّ زَيْغَةَ الْحَكِيمِ لَا تُوجِبُ الْإِعْرَاضَ عَنْهُ، وَلَكِنْ يُتْرَكُ مِنْ قَوْلِهِ مَا لَيْسَ عَلَيْهِ نُورٌ، فَإِنَّ عَلَى الْحَقِّ نُورًا، يَعْنِي - وَاللهُ أَعْلَمُ - دَلَالَةً مِنْ كِتَابٍ، أَوْ سُنَّةٍ، أَوْ إِجْمَاعٍ، أَوْ قِيَاسٍ عَلَى بَعْضِ هَذَا.یزید بن عمیرہ، جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں، فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب بھی ذکر کی مجلس میں بیٹھتے تو فرماتے: اللہ عادل حاکم ہے اور ابوالیمان کہتے ہیں: «الْقِسْطُ» ”قسط“ یہ اللہ کا نام ہے، شک کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مجلس میں ایک دن فرمانے لگے: جو تمہارے بعد ہیں ان میں مال کا فتنہ ہو گا اور قرآن کو پڑھا جائے گا۔ اس کو مومن اور منافق لے لیں گے، آزاد، غلام، مرد، عورت، بڑا، چھوٹا، سب اپنا حصہ وصول کریں گے۔ کہنے والا کہے گا: میں قرآن پڑھتا ہوں لوگ میری پیروی نہیں کرتے۔ اللہ کی قسم! وہ میری پیروی نہ کریں گے جب تک میں ان کے لیے کوئی دوسری بات نہ کروں۔ نئی بات سے بچو کیونکہ یہ گمراہی ہوتی ہے اور حکیم آدمی کی گمراہی سے بچو؛ کیونکہ کبھی کبھی شیطان بھی حکیم آدمی کے منہ سے گمراہی والی بات کہلوا دیتا ہے اور کبھی منافق بھی سچی بات کہہ دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ کیا حکیم گمراہی والی بات اور منافق سچی بات کہہ دیتا ہے؟ کہتے ہیں: جب حکیم آدمی مشتبہ کلام کرے تو اس کو چھوڑ دو جب تک وہ وضاحت نہ کرے۔ ممکن ہے وہ اپنی بات سے رجوع کرے اور حق بات کہہ دے اور حق تو نور ہوتا ہے اور قاضی کی روایت میں ہے کہ وہ آپ کی تعریف نہ کرے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بتایا: حکیم آدمی سے اس کی کسی غلط بات کی وجہ سے اعراض کرنا واجب نہیں ہے، لیکن اس کا نور سے خالی قول چھوڑ دیا جائے۔ یعنی یہ دلالت کتاب، سنت، اجماع یا قیاس سے ہوتی ہے۔