السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من سمى المرأة قارورة، والفرس بحرا على طريق التشبيه، أو سمى الأعمى بصيرا على طريق التفاؤل باب: جس نے بطورِ تشبیہ عورت کو ”آبگینہ (شیشہ)“ اور گھوڑے کو ”سمندر“ کہا، یا بطورِ نیک فالی (امید) نابینا کو ”بصیر“ (دیکھنے والا) کہا۔
حدیث نمبر: 20849
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُّوذِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: فَزِعَ النَّاسُ، فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ بَطِيئًا، ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ وَحْدَهُ، فَرَكِبَ النَّاسُ يَرْكُضُونَ خَلْفَهُ، فَقَالَ: " لَنْ تُرَاعُوا، إِنَّهُ لَبَحْرٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ گھبرائے تو نبی ﷺ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے سست گھوڑے پر سوار ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نکلے، ایڑ لگا رہے تھے۔ لوگ بھی آپ ﷺ کے بعد آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم گھبراؤ مت، یہ تو (گھوڑا) سمندر ہے۔“