السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من سمى المرأة قارورة، والفرس بحرا على طريق التشبيه، أو سمى الأعمى بصيرا على طريق التفاؤل باب: جس نے بطورِ تشبیہ عورت کو ”آبگینہ (شیشہ)“ اور گھوڑے کو ”سمندر“ کہا، یا بطورِ نیک فالی (امید) نابینا کو ”بصیر“ (دیکھنے والا) کہا۔
حدیث نمبر: 20848
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ وَنِسَاؤُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَإِذَا حَادٍ أَوْ سَائِقٌ، وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ، قَالَ: فَحَدَا الْحَادِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْفُقْ يَا أَنْجَشَةُ، وَيْحَكَ بِالْقَوَارِيرِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک سفر میں تھے اور عورتیں آپ ﷺ سے آگے تھیں کہ اچانک ان کی سواریوں کو چلانے والے، ایک دوسری جگہ ہے کہ حدی خواں سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انجشہ! شیشوں کے ساتھ نرمی کرو۔“ یعنی عورتوں کی سواریاں آہستہ سے چلاؤ۔