السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كان منكشف الكذب مظهره غير مستتر به، لم تجز شهادته باب: جس کا جھوٹ ظاہر ہو چکا ہو، وہ اسے اعلانیہ بولتا ہو اور اس سے پردہ پوشی نہ کرتا ہو تو اس کی گواہی جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 20822
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مَرْوَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا كَانَ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ، وَمَا جَرَّبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَحَدٍ كَذِبًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ مَا كَانَ، حَتَّى يَعْرِفَ مِنْهُ تَوْبَةً ". وَأَخْرَجَهُ شَيْخُنَا فِيمَا لَمْ يُمْلِ مِنْ كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ، عَنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی ملیکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کو جھوٹ سے بڑھ کر کوئی چیز ناپسند نہ تھی، جب رسول اللہ ﷺ کو کسی پر جھوٹ کا تجربہ ہو جاتا تو آپ ﷺ اس کی جانب پلٹ کر نہ آتے، جب تک اس کی توبہ کا حال معلوم نہ ہو جاتا۔