السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، ثنا وَاللهِ أَبُو ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْشِي فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، فَاسْتَقْبَلْنَا أُحُدًا، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ لِي ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيْهِ لَيْلَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللهِ هَكَذَا وَهَكَذَا "، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " أَلَا إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا ⦗٣١٩⦘ وَهَكَذَا "، ثُمَّ قَالَ لِي: " مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ "، قَالَ: وَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ: " لَا تَبْرَحْ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَرَضَ لَكَ ذَاكَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ فَأَقَمْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ جِبْرَائِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: " وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ..زید بن وہب فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، جو ربذہ میں تھے۔ ہم مدینہ کے پتھریلے علاقے میں چل رہے تھے۔ ہم احد پہاڑ کے سامنے آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اگر احد پہاڑ سونے کا بنا دیا جائے تو میرے پاس ایک رات بھی نہ نکالے، ہاں وہ ایک دینار جو قرض کے لیے رکھ لیا گیا ہو کہ میں اللہ کے بندوں میں اس طرح تقسیم کر دوں۔“ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”اے ابوذر!“ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں، حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! بہت سارے لوگ مالدار ہوتے ہیں لیکن مال کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں، لیکن جس نے اس طرح خرچ کر دیا۔“ پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”اے ابوذر! اپنی جگہ رہنا، میں تیرے پاس آتا ہوں۔“ اور آپ ﷺ چلے، مجھ سے چھپ گئے، میں نے آواز سنی تو میں ڈرا کہ نبی ﷺ کے لیے کوئی معاملہ پیش نہ آ جائے، میں نے ارادہ کیا کہ آپ ﷺ کے پاس آؤں، لیکن آپ ﷺ کی بات یاد آ گئی جو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ: ”ابوذر! اپنی جگہ رہنا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آواز سنی تھی، میں ڈرا کہ کوئی معاملہ پیش نہ آئے۔ پھر آپ کی بات یاد آ گئی تو میں ٹھہر گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جبرائیل ہیں، اس نے مجھے خبر دی کہ میری امت کا جو فرد فوت ہو گیا اور اللہ کے ساتھ اس نے شرک نہ کیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔“